Sunday, August 9, 2026
☰
✕
PAGES
CATEGORIES
Advertisement
Advertisement
Poetry - سُخن ریزے

جہاں عورت فسانہ ہے

· April 10, 2024

ہاں عورت فسانہ ہے
حناشہزادی

مکمل علم پاکر بھی
مکمل سوچ کے حامل
نا سمجھے اس کہانی کو
تو ان جیسے کوٸی جاہل
زمانے بھر میں نہ ہوں گے
جویہ تک بھی نہ ہیں سمجھے
کہاں عورت کو رکھنا ہے
کہاں عورت نے رہنا ہے
کہاں اس کا ٹھکانہ ہے
کہاں یہ بھی لکھا ہے کہ
اسی عورت نے سارا دن
اکیلے گھر چلانا ہے
کسی امیر ہستی کے
کسی مالک بنی روح کے
جوتوں پے لگی سب دھول
سب اس نے اُڑانی ہے
انہی سڑکوں پے رودھوکے
پیسہ بھی کمانا ہے
بچوں کو کھلانا ہے
کہاں یہ بھی لکھا ہے کہ
طعبیت بوجھ لگتی ہے
یہ عورت کا بہانہ ہے
غریبی کی بیماری میں
کوٸی دیتا دوا کب ہے
بڑا ظالم زمانہ ہے
جہاں عورت فسانہ ہے
اسے ہی سب گنوانا ہے

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.