ایسا تمہارے رنج کو دل سے لگا لیا
سترہ برس میں ہم کو بڑھاپے نے آ لیا
فاتح سپاہ مال غنیمت پہ گر پڑی
ہارے ہوؤں نے شہر پہ قبضہ جما لیا
روٹی ، مکان ،کپڑا ضرورت تو ہیں مگر
تم نے ضرورتوں کو خدا ہی بنا لیا
تکرار ہو رہی تھی خدا کے وجود پر
پھر اس نے اپنے چہرے سے پردہ ہٹا لیا
یہ زندگی کا کھیل ہے رولٹ نہیں کہ تم
جب ہارنے لگو گے تو چرخہ گھما لیا
ریحان سعید




