Sunday, August 9, 2026
☰
✕
PAGES
CATEGORIES
Advertisement
Advertisement
Poetry - سُخن ریزے

غزل

· July 22, 2023

مضارع مثمن اخرب محذوف
مفعول فاعلاتن مفعول فاعلن

“ہے مجھے یقیں”

پھر اچھا وقت آئے گا ہے مجھے یقیں
یہ وقت اس جہاں میں اب رُک نہ پائے گا
راتیں غموں کی دنیا میں ڈھل سی جائیں گی
یہ بند سا مقدر پھر کُھل سا جائے گا
الفت سکوں بکھیرے دنیا میں جابجا

دل لگ مرا یوں جائے گا ہے مجھے یقیں
پھر اچھا وقت آئے گا ہے مجھے یقیں

دل روئے اب نہ خوں کے آنسو یہاں کبھی
انساں کی ہو ہمیشہ تعظیم ہر جگہ
مل پائے حق سب انسانوں کو جہان میں
انساں کو مل سکے پھر تکریم ہر جگہ
گزرے بہادری سے ہر پل بلا شبہ

ایسا سمے بھی آئے گا ہے مجھے یقیں
پھر اچھا وقت آئے گا ہے مجھے یقیں

سورج بکھیرے گا کرنیں روشنی کی ہی
حدّت سے ساری فصلیں خوشیوں کی کِھل سکیں
جو دور ہوں اندھیرے اس زندگی سے ہی
پھر جو خوشی سے بھاٸی آپس میں مِل سکیں
اس کاٸنات میں رنگ و بُو اُمڈ سکے

اک دن سویرا چھاۓ گا ہے مجھے یقیں
پھر اچھا وقت آۓ گا ہے مجھے یقیں

ثمرین ندیم ثمر

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.