rki.news
رات بَھر دِل پہ دِل وہ بناتا رہا
چاند تکتا رہا مسکراتا رہا
ایک صورت کو میں آخری سانس تک
جانِ۔ من جانِ جاں ہی بُلاتا رہا
بت کدے بن چُکے ہیں وَہاں پر زیاد
تو۔۔ جَہاں۔ کشتیوں کو جلاتا رہا
اوڑھ کر مُخلصی کا لبادہ یہاں
وہ زمانے۔ کو پاگل۔ بناتا رہا
ایک شاعر بُھلاکےسبھی رنجشیں
ایک عورت کوجِھیلیں دکھاتا رہا
ہو گیا تھا اسے عشق افجان سے
کھڑکیاں کھول کر جو بُلاتا رہا
افجان حسین بزمی
راجہ جنگ
قصور




