بد سے بدتر دل کی حالت ہوگئی
یاد تیری وجہ شدت ہو گئی
چاندنی راتوں میں پھیلی تیرگی
یہ بھلا کیسی سیاست ہوگئی
وادیء دل میں بلا کا شور تھا
کان سے بھری سماعت ہو گئی
کچھ تو پیغامِ نظر ہی بھیج دے
دور رہنا تجھ سےقسمت ہو گئی
دیکھ کر تنہائیاں شرما گئیں
یوں گلے ملنے کی عادت ہو گئی
دیکھ کر ساحل کسی کو چشم تر
درد سے بوجھل طبیعت ہوگئی
از قلم ۔۔ سہیل ساحل ،مدیر اہل قلم ، لکھنئو ۔




