Sunday, August 9, 2026
☰
✕
PAGES
CATEGORIES
Advertisement
Advertisement
Poetry - سُخن ریزے

غزل۔

· July 23, 2024

دوستی کے لہجے میں دشمنی نے ماراہے
دکھ تو یہ ہے ہم کو بس اک خوشی نے ماراہے

تیرگی کا ہم کریں اب گلہ بھلا کیسے
ہم کو چاند راتوں میں چاندنی نے مارا ہے

دردِ نا رسائی اب ہم کو کیسے مارے گا
الوداعی لمحوں کی بے بسی نے مارا ہے

دوش کیا رقیبوں کو آج دیں کہ ہم کو تو
اپنی ہی محبت کی بے حسی نے مارا ہے

شہر میں جو رہتا تھا اجنبی سا دیوانہ
سب کو علم ہے اس کو آگہی نے مارا ہے

آرزو شکستہ ہے ، دل اداس رہتاہے
بس تمہاری یادوں سے دوستی نے مارا ہے

ہر قدم پہ اپنی یہ زندگی سلگتی ہے
شہر یہ جفا کا تھا ، مخلصی نے مارا ہے

شاعرہ نجمہ شاہین کھوسہ

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.