پھر نہ ہوگی تری عنایت کیا
یوں ہی طاری رہے گی وحشت کیا
تیری آنکھوں کی گفتگو سن لی
آج سمجھا کہ ہے بلاغت کیا
رنج پہنچا کے بھی نہیں وہ خوش
مسکرانے کی تھی ضرورت کیا
ضد کے بادل اُدھر اُمنڈنے لگے
آنے والی ہے دل کی شامت کیا
کیوں دکھاتے ہیں آنکھ شب زادے
روشنی سے ہے ان کو وحشت کیا
اِس طرح فاصلہ بڑھانے سے
ختم ہو جائے گی محبت کیا
دل سے ہے انسلاکِ دل راغبؔ
فاصلے کی ہے کوئی وقعت کیا
افتخار راغبؔ
جدہ، سعودی عرب



