Sunday, August 9, 2026
PAGES
CATEGORIES
Poetry - سُخن ریزے

غزل

· November 21, 2024

شاعرہ ماریہ اعجاز اٹک
ہمیں بے حد ستاتی ہیں ہماری ہجر کی راتیں
ہمیں تنہا رلاتی ہیں ہماری ہجر کی راتیں

سبھی آرام سے سوتے ہیں اپنے اپنے بستر پر
ہمیں شب بھر جگاتی ہیں ہماری ہجر کی راتیں

دلاتی یاد ہیں ہم کو وہ ماضی کے حسیں لمحے
ہمیں غم سے لڑاتی ہیں ہماری ہجر کی راتیں

اگر مدہوشی چھا جائے کھلی آنکھوں سے یہ ہم کو
کئی سپنے دکھاتی ہیں ہماری ہجر کی راتیں

کبھی شب کو ہو دستک ہم سمجھتے ہیں تم آئے ہو
ہمیں پاگل بناتی ہیں ہماری ہجر کی راتیں
اسے کوئی یہ ماریہ کہے ملنے چلے آؤ
وگرنہ یہ چِڑاتی ہیں ہماری ہجر کی راتیں

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.