وہ اجنبی تھا لیکن ، وہ بے خبر نہیں تھا
جو شریک تھا سفر میں ، میرا ہم سفر نہیں تھا
میرے ساتھ بھی وہ رہ کے، میرے دل میں وہ نہیں تھا
میری نظر میں تھا وہ ، نور نظر نہیں تھا
قدموں میں میرے دنیا ، رکھنے کا تھا ارادہ
سب سے وہ چھین لیتا، اتنا جگر نہیں تھا
خوشبو ، ہوا اور بادل، وہ گاؤں کے نظارے
ہم نے نہ مڑ کے دیکھا، تو جو ادھر نہیں تھا
فرزانہ دیکھو اس کو، روتا ہے خالی گھر میں
لگی بد دعا وہ اس کو ، جس میں اثر نہیں تھا
فرزانہ صفدر ۔ ٹورنٹو




