حویلی میں گہرا اندھیرا ہے ، میں ہوں
پرندوں کے دل ایک پنجرہ ہے ، میں ہوں
ذرا تم نگاہوں کی پرواز دیکھو
کتابوں میں بوسیدہ چہرہ ہے ، میں ہوں
یہاں کس سے کس کا پتہ پوچھتے ہو
پرانا کوئی سوکھا شجرہ ہے ،میں ہوں
کوئی رنگ کیا کینوس پر بھرو گے ؟
وہ آنکھیں، وہ دل، اشک میرا ہے ، میں ہوں
شغف کھیلتی ہنستی ہر سمت یادیں
کوئی عشق شاید ادھورا ہے ، میں ہوں
پروین شغف
دہلی




