Sunday, August 9, 2026
☰
✕
PAGES
CATEGORIES
Advertisement
Advertisement
Poetry - سُخن ریزے

غزل

· December 17, 2024

زیست ہے برف کی مانند ، پگھل جائے گی
آرزو ، ریت ہے مٹھی سے نکل جائے گی

سب نے کردار نبھانے ہیں چلے جانا ہے
رفتہ رفتہ یہ کہانی بھی بدل جائے گی

آج جو فیصلہ کرنا ہو سمجھ کر ، کرلیں
بات کل آپ کے ہاتھوں سے نکل جائے گی

ایک مدّت سے اِسی آس میں بیٹھے ہوئے ہیں
یہ مصیبت کی گھڑی دیکھنا ٹل جائے گی

چڑھتے سورج پہ بھی دیکھا ہے زوال آتے ہوئے
یہ جوانی ہے ، بہت جلد ہی ڈھل جائے گی

زندگی تجھ پہ بھروسہ نہیں تمثیلہ کو اب
جلد ہی تو بھی مرے خواب کچل جائے گی

تمثیلہ لطیف

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.