ھوکریں کھانے سے نادان سنبھل جاتا ہے
وقت کی تھپکی سے انسان بہل جاتا ہے
تم بدلنے پہ ہو مائل تو سبق یاد رہے
وقت بدلے تو جہاں سارا بدل جاتا ہے
آنکھ کچھ اور تکے ،دل کے ہیں معیار عجب
دل تو دل ہے جو خزاں میں بھی مچل جاتا ہے
روز اغیار کی محفل میں وہ آتے جاتے
میرے سب خواب وہ آنکھوں میں کچل جاتا ہے
شب گئے سر میں ہمکتا ہوا ہلکا سا خیال
صبح ہوتی ہے تو اشعار میں ڈھل جاتا ہے
خلیᷝــͥــᷝــᷧــͪــᷜـــل وجـᷠــᷧــͩــᷯـͥــᷱــدان



