Sunday, August 9, 2026
☰
✕
PAGES
CATEGORIES
Advertisement
Advertisement
Poetry - سُخن ریزے

غزل

· March 28, 2024

وفا کا ہے ماتم یہاں سے وہاں تک
وہی دکھ وہی غم یہاں سے وہاں تک

وہاں سے یہاں تک ہے جو بے قراری
وہی کچھ ہے عالم یہاں سے وہاں تک

گھُٹن گھَٹ رہی ہے نہ بے تابیِ دل
سو یکساں ہے موسم یہاں سے وہاں تک

اُدھر سے بھی سلجھانے کی فکر ہو کچھ
ہے الجھا یہ ریشم یہاں سے وہاں تک

بُجھیں وصل کی شمعِ امّید ساری
اندھیرا ہے پیہم یہاں سے وہاں تک

غمِ ہجر میں منتشر منتشر ہیں
کہیں تم کہیں ہم یہاں سے وہاں تک

مرے دل کا ہے وہم یا تیری خوشبو
ہواؤں میں ہر دم یہاں سے وہاں تک

جنوں میں اُسے جانے کیا لکھ دیا ہے
ہیں سب مجھ سے برہم یہاں سے وہاں تک

ملی گر خبر اُن کے آنے کی راغبؔ
تو بِچھ جائیں گے ہم یہاں سے وہاں تک

افتخار راغبؔ
دوحہ، قطر
کتاب: لفظوں میں احساس

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.