Sunday, August 9, 2026
PAGES
CATEGORIES
Snippets

غزل

· January 19, 2025

منظر بدلتا دیکھ کے حیرت ہو کیا مجھے
پھر جائیں گے وہ قول سے معلوم تھا مجھے

کیسے نہ دوستوں کا کہوں دل سے شکریہ
نقصان سے ہوا ہے بہت فائدہ مجھے

آ دیکھ لہلہاتے نرالے غزل درخت
راس آئی کیسی ہجر کی آب و ہوا مجھے

شاید بدلتی رُت تجھے چلنے سے روک دے
شاید نہ واپسی کا ملے راستہ مجھے

لینا تھا درگزر کی ہی نظروں سے مجھ کو کام
رکھنی تھی چشمِ فہم و صداقت بھی وا مجھے

تنہا دیا نہیں میں دیے کا ہوں سلسلہ
کم ظرف تیری پھونک بجھائے گی کیا مجھے

لکھتا تھا جن درختوں پہ اشکوں سے تیرا نام
دیتی ہیں اُن کی شاخیں ابھی تک دعا مجھے

وابستہ شعر گوئی کی سانسیں ہیں کن سے، دیکھ
رکھنا ہے دل کے زخم کو ہر دم ہرا مجھے

ہر بار زخم دے کے وہ راغبؔ ہوا نہال
ہر بار اُس کو دیکھ کے اچھا لگا مجھے

افتخار راغبؔ
ریاض، سعودی عرب

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.