پیش منظر میں دکھاوا ہوگا
کھیل سارا پسِ پردہ ہوگا
تم نے دیکھا ہے جسے گردش میں
کس کی قسمت کا ستارہ ہوگا
مر گیا ہے مرے اندر کوئی
پا کے آہٹ تری زندہ ہوگا
اور ہوں گی جو ہوائی باتیں
اور دَم گھٹنے کا خطرہ ہوگا
ایک دن آنکھ ہنسے گی خود پر
ایک دن راز سب افشا ہوگا
جن سے راغبؔ نہیں پھل پھول کی آس
ان درختوں سے بھی سایہ ہوگا
افتخار راغبؔ
ریاض، سعودی عرب




