جب بھی وہ باغ میں ٹہلتے ہیں
دیکھ کر پھول رشک کرتے ہیں
ضرب سے اک عصا کی ، پتھر سے
چشمۂ آب پھوٹ پڑتے ہیں
ہجر کی ساعتوں میں زخمِ دل
روز سِلتے ہیں روز ادُھڑتے ہیں
عزم ہو گر تو کامیابی کے
راستے خود بخود نکلتے ہیں
کسی بے بس کی آنکھ میں دیکھو
خواب اشکوں میں کیسے ڈھلتے ہیں
کچھ حسیں لوگ اپنے پیراہن
موسموں کی طرح بدلتے ہیں
بھیگ جاتی ہے آنکھ حسرت سے
ہم جب اُس موڑ سے گزرتے ہیں
*شاعرہ تمثیلہ لطیف*



