Sunday, August 9, 2026
☰
✕
PAGES
CATEGORIES
Advertisement
Advertisement
Poetry - سُخن ریزے

غزل

· February 16, 2025

جو اک ناداں کو ، دانا بولتا ہے
ہے مجھ پر جِن کا سایہ ، بولتا ہے

اُسے جب داستانِ غم کہوں تو
‘ مقدر کا ہے لکّھا ‘ بولتا ہے

اسے درخواست ملنے کی کروں تو
‘میں دریا ہوں ، تو صحرا ‘ بولتا ہے

زمانے ، زرد رُت کے آگئے ہیں
شجر کا ٹُوٹا پتہ بولتا ہے

ہے میرا عکس بھی اب کرچی کرچی
یہ آئینہ شکستہ بولتا ہے

کہاں ہے ہم قدم تیرا ، مسافر !
تری بستی کا رستہ بولتا ہے

کھلونے ، دسترس سے دور کیوں ہیں
کسی مفلس کا بیٹا بولتا ہے

*شاعرہ تمثیلہ لطیف

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.