ہم بھکاری ، رسول کے در کے
اور وہ شافع ہیں روزِ محشر کے
گوشے گوشے پہ حکمراں ہو تم
دل میں بت کیوں بساؤں پتھر کے
تم سخنور نہ خود بھی بن جاؤ
اس کے شعروں پہ تبصرہ کر کے
پھیر لیتا ہے شرم سے وہ نظر
سر سے جب میرے اوڑھنی سرکے
موت ! کچھ ساعتوں کی مہلت دے
وہ سرہانے کھڑا ہے بستر کے
ہوگی رنگیں حیات ، تمثیلہ !
دیکھ لو اُس پہ جیتے جی مر کے
تمثیلہ لطیف




