Sunday, August 9, 2026
☰
✕
PAGES
CATEGORIES
Advertisement
Advertisement
Poetry - سُخن ریزے

غزل

· February 18, 2025

عجیب حال ہے اے دل، عجب اُداسی ہے
لہو بھی ہے کہ رگ و پے میں اب اُداسی ہے

تجھے پتا ہے کہ کتنا پڑھا ہے میں نے تجھے
تری ہنسی کا یقیناً سبب اُداسی ہے

اُدھر سے تیر چلے تیری مسکراہٹ کے
اِدھر یہ حال کہ پھر جاں بہ لب اُداسی ہے

وہ ایک شوخ جو محور ہے میری غزلوں کا
ہے نام اُس کا محبت، لقب اداسی ہے

نہیں تھی وجہ بھی بے وجہ مسکرانے کی
کوئی سبب نہیں اب بے سبب اداسی ہے

عبث ہیں کوششیں راغبؔ وہ رنگ بھرنے کی
کسی کے دَم سے دمک تھی سو اب اُداسی ہے

افتخار راغبؔ
ریاض، سعودی عرب

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.