Sunday, August 9, 2026
☰
✕
PAGES
CATEGORIES
Advertisement
Advertisement
Poetry - سُخن ریزے

غزل

· February 19, 2025
غزل

عمر بھر ایک ہی معنی تو نہیں چھاؤں کے
حوصلے ٹوٹ بھی جاتے ہیں کبھی ماؤں کے

دشت کے سینے پہ کچھ نقش بنے پاؤں کے
اور ہیبت سے جگر پھٹ گئے صحراؤں کے

دیکھتی ہیں کبھی قبروں، کبھی بچوں کی طرف
دیکھنا عید پہ چہرے کبھی بیواؤں کے

شہر میں آئے تو شیشے کی طرح نازک تھے
اور پھر سنگ ہوئے لوگ مرے گاؤں کے

جتنی گہری تری آنکھیں ہیں مرے دشت نورد
اس قدر گہرے تو سینے نہیں دریاؤں کے

آپ ان کو فقط آنسو نہ سمجھنا یارو
یہ جنازے ہیں، جنازے بھی تمناؤں کے

گھر سے نکلے ہوئے بچوں کی خدا خیر کرے
گھر میں بیٹھے ہوئے دل بیٹھ گئے ماؤں کے

فہد قیصرانی

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.