تجھ میں خوئے وفا نہیں باقی
لب پہ حرفِ دعا نہیں باقی
کیا خطابت میں شعلگی آئے
عشقِ دو آتشہ نہیں باقی
ظلم ڈھانے سے ہو گیا تائب
اُس میں بوئے جفا نہیں باقی
پھر وہ محبوب کیسے کہلائے
جس میں ناز و ادا نہیں باقی
پھیر لی میں نے جب نظر تجھ سے
اب ، ترا آئنہ نہیں باقی
تیرگی ، اس قدر مرے مولا
اب تو سایہ مرا ، نہیں باقی
زرد رُت کا عذاب تو دیکھو
اک شجر بھی ہرا ، نہیں باقی
منتظر ، حشر کی ہے تمثیلہ
کوئی رب کے سوا نہیں باقی
تمثیلہ لطیف




