Sunday, August 9, 2026
☰
✕
PAGES
CATEGORIES
Advertisement
Advertisement
Poetry - سُخن ریزے

غزل

· April 24, 2024
غزل

شاخ اِس بات پہ خُوش، پھول اسی کا حق ہے
پھول خوش فَہم کہ خُوشبو پہ سبھی کاحق ہے

تم جو کل آؤ تو پھر بات تمہی سے ہو گی
آج تو مجھ پہ مِری تِیرہ شبی کا حق ہے

تیری آنکھوں کا یہ مَے خانہ سلامت باشد !
میں وہ مَیکش ہوں جِسے تِشنہ لبی کا حق ہے

کون کافر ترے ہمراہ چلے منزل تک
میں ہوں رَہرَو مجھے بے راہرَوِی کا حق ہے

غمِ اِمروز کو نسبت میری تخلیق سے ہے
گردشِ حال کا مُجھ پر تو تَبھی کا حق ہے

آؤ ! ترحِیلِ غمِ دَہر پہ کُچھ بات کریں
ہم ہیں بِینا تو یہی دِیدہ وَری کا حق ہے

میری محرومی بجا، اُس سے ہے شکوہ بے جا
کیسے مل جائے مُجھے وہ جوکسی کا حق ہے

ہو چُکی اب تو مقرّر میرے سَر کی قیمت
اب مُجهے شہر میں شورِیدہ سری کا حق ہے

(سلیم کاوش

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.