مرے دکھ پہ شہر ستم رو پڑا
لکھے لفظ جب بھی ، قلم رو پڑا
یہ دل اس کے در کی طرف چل پڑا
تھی وہ شدت غم ، صنم رو پڑا
مرے قلب و جاں نے جو صدمے سہے
کچھ ایسے کیا صبر ، غم رو پڑا
کوئ چیخ اٹھا مری روح میں
جو باقی تھا میرا بھرم ، رو پڑا
یہ جنگ و جدل ساری بے سود تھی
وجود زیاں پر ، عدم رو پڑا
تڑپ خانم ایسی مرے دل کی تھی
ہوا سجدہ حیراں ، کرم رو پڑا
فریدہ خانم ، لاہور ، پاکستان




