افتخار راغبؔ
دوحہ قطر
مہرباں ہے تری محبت کیا
دل پہ طاری رہے گی وحشت کیا
تیری آنکھوں کی گفتگو اے شوخ
میں نے سمجھا کہ ہے بلاغت کیا
رنج دے کر بھی خوش نہیں ہیں وہ
مسکرانے کی تھی ضرورت کیا
کیوں اندھیرے دکھا ریے ہیں آنکھ
پست ہے روشنی کی ہمت کیا
ضد کے بادل اُدھر اُمنڈنے لگے
آنے والی ہے دل کی شامت کیا
اس طرح فاصلہ بڑھانے سے
ختم ہو جائے گی محبت کیا
دل سے ہے انسلاکِ دل راغبؔ
فاصلوں کی ہے کوئی وقعت کیا




