Sunday, August 9, 2026
☰
✕
PAGES
CATEGORIES
Advertisement
Advertisement
Poetry - سُخن ریزے

غزل

· March 21, 2025

حقیقت یاد رہتی ہے ، فسانے بھول جاتی ہوں
میں دل میں رکھ کے یادوں کے خزانے ، بھول جاتی ہوں

وہ تیری یاد کے جگنو ، وہ تیری پیار کی باتیں
شبِ تنہائی میں موسم پرانے ، بھول جاتی ہوں

مجھے الزام مت دینا کبھی تفریق کاری کا
نگاہوں میں نشے کے بادہ خانے بھول جاتی ہوں

میں جب بھی دھند کی وادی میں محوِ خواب ہوتی ہوں
تو ، تعبیروں کے امکانی ٹھکانے بھول جاتی ہوں

شبِ تنہائی میں اکثر ، بلاتی ہوں تمھیں دل سے
نہ آنے کے میں خود سارے بہانے ، بھول جاتی ہوں

بڑے ناداں ہیں تیرے شہر کے باسی ، کہ جو سمجھے
ملے تھے درد جن میں وہ زمانے بھول جاتی ہوں

ہوا تبدیل معیارِ رفاقت ایسے تمثیلہ !
نئے سب یاد رہتے ہیں پرانے بھول جاتی ہوں

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.