Sunday, August 9, 2026
PAGES
CATEGORIES
Poetry - سُخن ریزے

غزل

· March 25, 2025
غزل

تو بھی میرے خلاف ہے میں نے سنا برا لگا
سب نے کہا مگر مجھے تیرا کہا برا لگا

جتنے پرانے تھے رقیب اب تو وہ بن گئے حبیب
اس داستان عشق میں اک یہ نیا برا لگا

تو نے جو دل دکھایا تھا اب اس کا پوچھنا بھی کیا
تیرا بھی دل میرے سبب اج دکھا برا لگا

سنتا نہیں ہے بات بھی ہو گئی ہے رات بھی
میرا خدا تو ٹھیک ہے تیرا خدا برا لگا

سن کے یہ گیت جاز کا پھرتا تھا خوش میں ترے ساتھ
ٹو جو نہیں ہے ساتھ تو
اج سنا برا لگا

جب تک ملا نہیں تھا تو تب تک تو اک خدا تھا تو
جب سے ملا تیرا پتہ تیرا پتہ برا لگا

تجھ سے تھی ساری رونقیں
تیرے بغیر گھر تھا کیا
خود ہی جلا دیا اسے خالی پڑا برا لگا
: میں آدمی نہیں ہوں ٹھیک
یہ میں بھی جانتا ہوں پر
بس تم سے پوچھنا ہے دوست
تم کو بھی کیا برا لگا
اظہر عباس

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.