rki.news
انسان ہی انسان کا قاتل جو بنا ہے
دنیا میں وہ خود کو ہی سمجھ بیٹھا خدا ہے
نفرت ہے اگاٸی دِلوں کے بیچ تمہی نے
اک دوجے کو مارو یہ چلی کیسی ہوا ہے
کوشش کرو پھر خون نہ بہہ پائے یوں ناحق
یہ محض گھمنڈ اور نِری طاقت کا نشہ ہے
پیدا ہیں مساٸل تو کرو امن سے وہ حل
ناعاقِبَتَ اندیشی سے پھیلی یہ فضا ہے
سارا ہی جہاں امن کا گہوارہ بنے اور
دنیا یہ سنور جاۓ ثمر کی یہ دعا ہے
ثمرین ندیم ثمر



