rki.news
اس کو پانے کی کتنی حسرت تھی
جس کو مجھ سے سدا ہی نفرت تھی
خامیاں میری درگزر کرتے
ان کو مجھ سے اگر محبت تھی
وہ زمانہ کہاں گیا یارو
جب زباں کی جہاں میں قیمت تھی
تھیں بہاریں خزاں کے موسم میں
مصنوعی پھولوں میں بھی نکہت تھی
اتنی اجرت نہیں ملی اس کو
کام میں جتنی اسکی محنت تھی
رقص کرتی تھیں ہر طرف خوشیاں
آپ کی مجھ پہ جب عنایت تھی
ساتھ تب تو نہیں دیا عاطفؔ
جب مجھے آپ کی ضرورت تھی
ارشاد عاطفؔ احمدآباد انڈیا




