rki.news
پاسباں جس کو کہہ سکوں گھر کا
کوئی سائیں تو ہو ، مرے سر کا
جو درِ مصطفیٰ ص کا منگتا ہو
وہ بھکاری نہ ہوگا در در کا
میٹھے پانی کا چھوٹا چشمہ ہوں
مجھ سے کیا واسطہ سمندر کا
تیری عزت پہ حرف آئے گا
سر سے آنچل اگر مرے سرکا
خوش دلی سے قبول کرنا ہے
جو ہے لکّھا ہوا مقدر کا
چاہے کتنا بھی ہو سکوں باہر
شور سونے نہ دے گا اندر کا
دل کی باتوں میں آ کے تمثیلہ
روگ مت پال ، زندگی بھر کا
تمثیلہ لطیف



