rki.news
یک مدت ہوئی ستم سہتے
خود سے ہی خود کا حالِ دل کہتے
عمر ساری جُدائی میں گزری
اَشک آنکھوں سے رہ گئے بہتے
کیسے ان کو بتائیں یہ آخر
بِن محبت کے ہم نہیں رہتے
جانے پھر کس طرح سحر ہوتی ؟
شب میں آنسو اگر نہیں بہتے
چوٹ کھانے کا ہے مزہ اپنا
درد کو ہم بُرا نہیں کہتے
عشق پر ہے یقین گل لیکن!
عشق والوں کا کچھ نہیں کہتے۔
ُسباس گل
رحیم یار خان
پاکستان



