تیرے دل میں سماے بیٹھے ہیں
تیری ہستی پہ چھاے بیٹھے ہیں
کیا چراے گا ہم سے آنکھیں تو
تجھ کو اپنا بناے بیٹھے ہیں
خوب واقف ہیں اس زمانے سے
ہم اسے آزماے بیٹھے…… ہیں
ہیں تو پتھر مگر خیال رہے
پھول سے چوٹ کھاے بیٹھے ہیں
اب تیری جاں کی خیر ہو جاناں
ہم تیرا دل چراے بیٹھے ہیں
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور




