rki.news
جہاں پہ پھولوں کو ہونا تھا
کوڑے کرکٹ کا ملبہ تھا
ازادی کا جشن مناؤ
میرا تو گھر بار لٹا تھا
کس نے خوشی کے نغمے گائے
کس کو پاکستان ملا تھا
میرے بچے پوچھ رہے ہیں
یہ تھا جس کا خواب دیکھا تھا
قتل و غارت سے بچ کر بھی
قتل و غارت ہی ہونا تھا
میں نے پنجرے کے اندر سے
اڑتے پنچھی کو دیکھا تھا
اپنے لوگوں کے ہاتھوں سے
وحشت کا ماحول بنا تھا
کتے حویلی سے نکلے تھے
وہ اک لڑکی کا لاشہ تھا
اپنی آزادی پر اظہر
پھر سرداروں کا قبضہ تھا
اظہر عباس




