Sunday, August 9, 2026
☰
✕
PAGES
CATEGORIES
Advertisement
Advertisement
Poetry - سُخن ریزے

غزل

· May 22, 2024

مجھے جب بھی وہ گلیاں اور وہ رستہ یاد آتا ہے
کوئی دھندلا سامنظر ہے جو اجلا یاد آتا ہے

قضائے دل پہ طاری ہے بہت ہی حبس کا موسم
تری قربت کی خوشبو کا وہ جھونکا یاد آتا ہے
کہاں تم تو جدائی کا وہ منظر بھول بیٹھے ہو
خلا میں دیکھ کر مجھ سے وہ بولا ۔ یاد آتا ہے
خزاں رت ہے مگر مجھ کو خیالوں کے تسلسل میں
محبت کے گلابوں کا وہ سپنا یاد آتا ہے
کسی کے دکھ بھرے لمحے میں جب کوئی بلکتا ہے
حقیقت میں اسے ہر زخم اپنا یاد آتا ہے
مسلسل ریت پر چلنا وفا کی ریت ٹھہری ہے
تری دہلیز تک پھیلا وہ صحرا یاد آتا ہے
وہ لمحہ جو گزرتے موسموں میں ساتھ ٹھہرا ہے
مجھے خود بھی نہیں معلوم کتنا یاد آتا ہے
کبھی جب ہجر کی آہٹ سی دل آنگن میں آتی ہے
بہت اپنائیت سے بس وہ اپنا یاد آتا ہے
ترا ہی عکس اترا ہے مری نظموں میں غزلوں میں
وہ لہجہ تیری چاہت کا وہ چہرہ یاد آتا ہے
ہمارا نام لکھا تھا کبھی جو ریت پر اس نے
کبھی جب یاد آئے تو وہ دریا یاد آتا ہے
مرے آنگن میں جب بھی شام کے سائے اترتے ہیں
مجھے شاہیں محبت کا ہی سایہ یاد آتا ہے
شاعرہ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.