rki.news
گھر کی تنہائی سے گھبرا کے نکل جاتے ہیں
ٹھوکریں کھاتے ہیں گرتے ہیں سنبھل جاتے ہیں
وہ عدو گر ہے ہمارا تو کوئی بات نہیں
اس کے انداز تکلم سے پگھل جاتے ہیں
دوڑ کر ہم نہیں چلتے ہیں مگر کیا کیجیئے
تیز چلتے ہوئے رستے پہ پھسل جاتے ہیں
ہم کو حسرت بھری نظروں سے ندی دیکھتی ہے
پیاس ہونٹوں پہ سجا کر جو نکل جاتے ہیں
ہم جو لاتے ہیں کھلونے کبھی گھر میں شارق
دل بھی خوش ہوتا ہے بچے بھی بہل جاتے ہیں
( شارق ریاض۔ کولکاتا)




