rki.news
ضروری بات کرنی ہے
خوشی کی بات کرنی ہے
تمھیں کس بات کا غم ہے؟
یہی تو بات کرنی ہے
کبھی فرصت نکالو نا
تمھاری بات کرنی ہے
پرانی اور کوئی تازہ
زرا سی بات کرنی ہے
ادھوری رہ گئی تھی جو
وہ پُوری بات کرنی ہے
ہے دل میں جو تمھارے بس
وہی تو بات کرنی ہے
ُسنو! یہ بے رخی کیسی ؟
اسی کی بات کرنی ہے
بتاؤ مل سکو گے کیا ؟
ہماری بات کرنی ہے
اچانک ملنے آ جاؤ
انوکھی بات کرنی ہے
ہمیں کچھ تو بتاؤ گُل
کیوں ایسی بات کرنی ہے؟
ُسباس ُگل
رحیم یار خان




