Sunday, August 9, 2026
☰
✕
PAGES
CATEGORIES
Advertisement
Advertisement
Poetry - سُخن ریزے

غزل

· September 22, 2025

rki.news

نوشاد اشہر

رسم جینے کی نبھانی ہے نبھاؤ جاؤ
اور کچھ دیر ابھی دھوم مچاؤ جاؤ

رہنما خود کو زمانے کا بناؤ جاؤ
راہ بھٹکے ہوئے لوگوں کو دکھاؤ جاؤ

یہ جھجھک کیسی مرے یار تکلف کیسا
گھر تمہارا ہے یہ دل شوق سے آؤ جاؤ

غم زمانے کے کوئی کم تھے جو تم آئے ہو
مشکلیں اور نہ اب میری بڑھاؤ جاؤ

مانگنے کا بھی ضروری ہے سلیقہ سیکھو
ورنہ پندار کا کشکول اٹھاؤ جاؤ

گھر تمہارا بھی اسی آگ میں جل جائے گا
آگ ہمسائے کی اے یار بجھاؤ جاؤ

تم نئے آئے ہو اس دشت خرابے میں ابھی
دھونس ہم پر نہ امیری کا جماؤ جاؤ

کتنی مشکل سے بھلایا ہے تمہیں مر مر کے
التجا اتنی ہے اب یاد نہ آؤ جاؤ

بے وفا تم کو سمجھ لے نہ یہ دنیا اشہر
کوئی الزام مرے سر پہ لگاؤ جاؤ

نوشاد اشہر اعظمی
بلریا گنج اعظم گڑھ

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.