rki.news
جانے کیوں جتنے قافلے نکلے
ہم سفر سارے آپ کے نکلے
مجھ میں عیبوں کے پوٹلے نکلے
کتنے عالی جناب کے نکلے
ڈگمگانے لگے وفا کے قدم
خاردار ایسے راستے نکلے
کھا لیا اژدہوں کو ایک عصا
جتنے جادو کے زعم سے نکلے
میرے وہم و گمان سے بھی آپ
اپنے قد سے بہت بڑے نکلے
جاتے جاتے کرم نواز مرے
دل کی دنیا اجاڑ کے نکلے
اے فلسطین تیری دھرتی سے
کتنے معصوم چینختے نکلے
سانپ میں نے سنا تھا پر منصور
آستینوں سے اژدہے نکلے
منصور اعظمی دوحہ قطر




