rki.news
وہ مَحبَّت جو کبھی خواب ہُوا کرتی تھی
تیرے پہلو میں وہ زَرنَاب ہُوا کرتی تھی
اِک تِرا خَال تھا اُسلُوبِ نِگارِش میرا
اِک تِری زُلف کہ اِعراب ہُوا کرتی تھی
تیرے اَبرُو سرِ اِمکان ہُوا کرتے تھے
چشمِ مائل پَئے اِیجاب ہُوا کرتی تھی
تیرا لَہجہ کبھی زَہرآب نہ تھا میرے لیے
تیری آنکھوں میں مَئے نَاب ہُوا کرتی تھی
تُو گیا ہے تو اَماوَس کی سَمَجھ آئی ہے
ورنہ ہر شَب ، شَبِ مَہتاب ہُوا کرتی تھی
سلیم کاوش



