rki.news
شوق سے جاؤ رہو پردیس میں
فکر گھر کی بھی رکھو پردیس میں
وقت رخصت یہ بزرگوں نے کہا
جاؤ تم پھولو پھلو پردیس میں
یہ کہا تھا اُس نے آنسو پوچھ کر
بھول مت جانا سنو پردیس میں
خواب کو تعبیر دینی ہو اگر
ریت کے بستر پہ سو پردیس میں
کیسے ہوتے ہیں یہ لمحے ہجر کے
کیا بتائیں آپ کو پردیس میں
ماں کی ممتا باب کا سایہ نہیں
کیسے جیتے ہو کہو پردیس میں
جب انھیں کوئی خُوشی حاصل نہیں
كس لئے منصور ہو پردیس میں
منصور اعظمی دوحہ قطر



