Sunday, August 9, 2026
PAGES
CATEGORIES
Poetry - سُخن ریزے

غزل

· November 26, 2025

ایک اک بات پہ وہ حشر اٹھانا دل کا
تو نے دیکھا ہی نہیں یار زمانہ دل کا

کام آیا نہ مرے راز چھپانا دل کا
کہہ دیا آنکھوں نے محفل میں فسانہ دل کا

سنتا رہتا ہوں خموشی سے بھلا لگتا ہے
دشتِ تنہائی میں یوں شور مچانا دل کا

لوٹ کر جانے ہی دیتا نہیں گھر کی جانب
اسپِ سرکش کی طرح بس میں نہ آنا دل کا

ڈر ہی جاتا میں مصائب سے مگر کام آیا
حوصلہ راہ میں ہر گام بڑھانا دل کا

وقت نے گو کہ بدل ڈالے خد و خال مگر
آج بھی ہے وہی انداز پرانا دل کا

آئینہ ذات کا جب ٹوٹ کے بکھرا سمجھے
کیوں برا ہوتا ہے پتھر سے لگانا دل کا

کوئی دشوار نہ تھا میرے لئے اٹھ جانا
بس کہ دشوار تھا محفل سے اٹھانا دل کا

کوئی پوچھے تو یہی کہتا ہوں سب سے اشہر
شاخِ امکان پہ رہتا ہے ٹھکانہ دل کا

نوشاد اشہر اعظمی
بلریا گنج اعظم گڑھ

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.