Sunday, August 9, 2026
☰
✕
PAGES
CATEGORIES
Advertisement
Advertisement
Poetry - سُخن ریزے

غزل

· December 23, 2025
غزل

rki.news

ہماری بات ذرا مان جاٶ ضد نہ کرو
پرانی جو بھی ہے نفرت بُھلاٶ ضد نہ کرو

ترس گئی ہیں نگاہیں تمہاری یاد میں یوں
کہاں ہو تم کسی رستے سے آٶ ضد نہ کرو

یہ نفرتوں کے پُجاری ہیں اُلفتوں کے عُدو
نہ دل کو اُن کے لئے تم جلاٶ ضد نہ کرو

نہ لو حساب پرانی رقابتوں کا کبھی
محبّتوں کے دیئوں کو جلاٶ ضد نہ کرو

وہ رونقیں کہاں، وہ رت جگے کہاں ہوۓ گُم
وہی حسین سماں پھرسے لاٶ ضد نہ کرو

وفا پہ عشق کی بنیاد تھی اگر چہ ثمر
مگر ہے ڈر نہ کہیں بھول جاٶ ضد نہ کرو

محبّتیں دِلوں کو جوڑ دیں کہیں بھی ثمر
ہنسا کے رُوٹھے دِلوں کو مناو ضد نہ کرو

ثمرین ندیم ثمر

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.