ہونی تو چاہئے تھی مُحبت عروج پر
لیکِن ہے دل میں بغض و عداوت عروج پر
حالات ایسے پیدا کئے جا رہے ہیں لوگ
دنیا میں آج کل ہے بغاوت عروج پر
تعلیم کا بلند ہے معیار اک طرف
افسوس اِک طرف ہے جہالت عروج پر
یہ رہنماے وقت سے تحفے میں ہے ملا
ہے اج کل سماج میں نفرت عروج پر
بغض و حسد غرور کے کچھ لوگ ہیں شکار
جیسے انانیت کی ہے لعنت عروج پ
منصور اعظمی دوحہ قطر




