rki.news
میری آنکھیں سجائے تو
کبھی خوابوں میں آئے تو
وہ حُسنِ لامکاں میری
کبھی نظروں میں آئے تو
نظر ٹھہری ہے مدت سے
وہ پردہ بھی اٹھاۓ تو
سوا اُس کے میں کیا لکھوں
کوئی آنکھوں کو بھائے تو
منانے کے کروں حیلے
اگر وہ رُوٹھ جائے تو
میں اُس کو یاد آؤں گا
مجھے پہلے بُھلائے تو
جمیل اک خوف ہے طاری
وہ سب کچھ بھول جائے تو
ڈاکٹر جمیل حیات
اٹک




