rki.news
جب جوانی کا سماں ہوتا ہے
ہوش میں کوئی کہاں ہوتا ہے
آگ لگتی ہے کلیجے میں مگر
آب آنکھوں سے رواں ہوتا ہے
ہم جہاں ہوتے ہیں جانجاناں
ذکر تیرا بھی وہاں ہوتا ہے
دل سلگتا ہے محبت میں مگر
ساری دنیا میں دھواں ہوتا ہے
کون گزرا ہے ادھر سے وللہ
انکی خوشبو کا گماں ہوتا ہے
ٹھاٹ ہوتے ہیں میاں انکے تو
شہر میں جن کا مکاں ہوتا ہے
آج تک ہم نہ سمجھ پائے فراز
پیار کس وقت جواں ہوتا ہے
سرفراز حسین فراز مرادآباد




