Sunday, August 9, 2026
☰
✕
PAGES
CATEGORIES
Advertisement
Advertisement
Poetry - سُخن ریزے

غزل

· July 8, 2024

درد کابوجھ ترے شہر سے لائے ہوئے لوگ
اب کہاں جائیں یہ زخموں کوسجائے ہوئے لوگ

ہیں یہی جن سے سلامت ہے محبت کاوجود
پھول پتھرمیں وفاﺅں کے کھلائے ہوئے لوگ

ہیں اس آسیب کے ہر روپ سے انجان ابھی
یہ جو ہیں عشق حقیقت کوبھلائے ہوئے لوگ

کون کہتا ہے کہ زندہ ہیں بظاہر زندہ
روح کا بوجھ بدن میں ہی اٹھائے ہوئے لوگ

بنتے جاتے ہیں یہ تصویر گئے وقتوں کی
ہجرکے روگ کوسینے سے لگائے ہوئے لوگ

وہ جو کٹیا تھی جہاں عشق بسیرا تھا کبھی
وحشتوں کے ہیں وہاں اب تو ستایے ہوئے لوگ

ہیں یہی جن سے سلامت ہے محبت کاوجود
پھول پتھرمیں وفاﺅں کے کھلائے ہوئے لوگ

حال پوچھونہ کبھی بچھڑے دلوں کاشاہیں
اپنے لاشوں کوہیں شانوں پہ اٹھائے ہوئے لوگ

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ
ڈیرہ غازی خان پنجاب پاکستان

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.