یوں خیالوں میں آپ کا آنا
جھیل میں چاند کا اتر جانا
تم مری جاں ہو، دل ہو حسرت ہو
چھوڑ دو مجھ کو ایسے بہلانا
آپ کے وصل کا اشارہ ہے
مہکی زلفوں کا میری لہرانا
کیا ہے مقصد تمھاری چاہت کا
تم کبھی یہ مجھے بھی سمجھانا
دن گزرتے نہیں تمھارے بغیر
یاد کرتی ہوں تم کو روزانہ
تم جب آو تو پیار کے کنگن
اپنے ہاتھوں سے مجھ کو پہنانا
زندگی اک سوال ہے شازی
زندگی سے فریب مت کھانا
شازیہ۔ عالم۔ شازی



