غم بھلانے ہیں زندگی کے مجھے
کا م آ نا ہے ہر کسی کے مجھے
اس کا احسان کس طرح بھولوں
جس نے تحفے دیے ہنسی کے مجھے
تیرگی کے سفر میں ہیں درپیش
کچھ دیے دل کی روشنی کے مجھے
میں نے بچپن میں جو سنے تھےکبھی
یاد قصے ہیں وہ پری کے مجھے
ہے دعا یاد ہی نہ آئیں کبھی
سلسلے یہ ستمگر ی کے مجھے
شازیہ ! سچ کہیں تو یہ لمحے
راس آتے نہیں خوشی کے مجھے
شازیہ عالم شازی




