Sunday, August 9, 2026
☰
✕
PAGES
CATEGORIES
Advertisement
Advertisement
Poetry - سُخن ریزے

غزل

· July 14, 2024

اُف توبہ إ ہے کیوں مشکل ہر گام خدا جانے
کیوں کر نہ سنور پائے ہر کام خدا جانے
تم کیسے بھلا اتنا لکھتی ہو روانی سے
الہام یہ ہوتا ہے الہام خدا جانے
میں صبر پہ قائم ہوں، ہے شکر سدا لب پر
آزار خدا جانے، آلام خدا جانے
میں جانتی اتنا ہوں رکھوالا ہے وہ سب کا
کہرام جو برپا ہے کہرام خدا جانے
ہے کام مرا روکوں کرتی ہوں مگر ہرسو
اصنام کی پوجا ہے اصنام خدا جانے
صدیق کی بیٹی ہوں پاکیزہ ہوں اے مرسل
الزام لگاتے ہیں الزام خدا جانے
تمثیلہ تو بندی ہے کم فہم بھی ہے تھوڑی
ابہام جو پیدا ہے ابہام خدا جانے
تمثیلہ لطیف

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.