Sunday, August 9, 2026
☰
✕
PAGES
CATEGORIES
Advertisement
Advertisement
Poetry - سُخن ریزے

غزل

· July 15, 2024

تم کو دیکھا تو ہمارے زخم تازہ ہو گئے
مُندمل ہونے سے پہلے زخم تازہ ہو گئے

وہ بھی دن تھے دیکھ کر تارے خوشی ملتی ہمیں
اب جو روشن دیکھے تارے زخم تازہ ہو گئے

یاد ہے وہ دن مجھے تم نے سنوارا تھا کبھی
اپنے گیسو خود سنوارے زخم تازہ ہو گئے

شاعری مدت سے یوں تو چھوڑ رکھی تھی مگر
لکھ رہی ہوں گیت پیارے زخم تازہ ہو گئے

آج بھی موجود ہیں ظالم یہاں کل کی طرح
آج بھی عشاق ہارے زخم تازہ ہو گئے

وہ بڑھاپے کو جو پہنچے تو پسر کے جیتے جی
اور بنتے تھے سہارے زخم تازہ ہو گئے

ہم نے تمثیلہ کا دیکھا جب جھلستا آشیاں
ہر طرف پائے شرارے زخم تازہ ہو گئے

new logo rki
ABOUT
Your World in Words — independent daily news across Qatar, Pakistan and the world.
READER SERVICES
© 2026 Daily Rahbar Kisan International. All Rights Reserved.