ہ مَحبَّت جو کبھی خواب ہُوا کرتی تھی
تیرے پہلو میں وہ زَرنَاب ہُوا کرتی تھی
اِک تِرا خال تھا اُسلُوبِ نِگارِش میرا
اِک تِری زُلف کہ اِعراب ہُوا کرتی تھی
تیرا اَبرُو سرِ اِمکان ہُوا کرتا تھا
چشمِ مائل پَئے اِیجاب ہُوا کرتی تھی
تیرا لَہجہ کبھی زَہرآب نہ تھا میرے لیے
تیری آنکھوں میں مَئے نَاب ہُوا کرتی تھی
تُو گیا ہے تو اَماوَس کی سَمَجھ آئی ہے
ورنہ ہر شَب ، شَبِ مَہتاب ہُوا کرتی تھی
15 جولائی 2024




